کولکاتہ،3اکتوبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )بی سی سی آئی صدر انوراگ ٹھاکر نے آج کہا کہ اگر بورڈ جسٹس آرایم لوڈھا کمیٹی کی سفارشات کو مکمل طور پر لاگو کرتا ہے تو ہندوستان کو اگلے سال انگلینڈ میں ہونے والی چمپئنز ٹرافی سے ہٹنا پڑے گا۔لوڈھا پینل کی طرف لاگوکئے گئے اصلاحات کے مطابق آئی پی ایل سے پہلے یا بعد میں 15دن کی ونڈو ہونی چاہئے۔چمپئنز ٹرافی ایک سے 18جون تک ہونی ہے اور آئی پی ایل کے مئی کے آخری ہفتے میں ختم ہونے کی امید ہے۔ٹھاکر نے کہا کہ میں نہیں جانتا کہ ہندوستان چمپئنز ٹرافی میں کھیلنے قابل ہوگا یا نہیں،اگر آپ لوڈھا کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق چلو گے تو آپ کو یا تو آئی پی ایل کھیلناہوگا یا پھر چیمپئنز ٹرافی میں،اس لئے بی سی سی آئی کو اس پر فیصلہ لینا ہوگا۔بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کو دیکھتے ہوئے جب ہندوستان کو پاکستان کے علاوہ کسی دوسرے گروپ میں شامل کئے جانے کے سلسلے میں سوال پوچھا گیا تو ٹھاکر نے کہا کہ آئی پی ایل اور چیمپئنز ٹرافی سے پہلے آسٹریلوی سیریز ہے،اس لئے بی سی سی آئی کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ آئی پی ایل میں کھیلیں یا چیمپئنز ٹرافی میں،اگر آپ کو لوڈھا کمیٹی کی سفارشات کو مکمل نافذ کرنا ہے تو آپ کو ان میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔انہوں نے کہاکہ ہندوستان اور پاکستان کا سوال تو تب اٹھے گا جب ہندوستان چیمپئنز ٹرافی میں کھیلے گا۔
بی سی سی آئی سربراہ انوراگ ٹھاکر نے آج اشارہ دیا کہ بورڈ متنازع امپائروں کے فیصلوں کا جائزہ لینے کے نظام(ڈی آرایس)کو لاگو کرنے کے لئے تیار ہے لیکن اس کیلئے یہ ٹیکنالوجی کم سے کم کمال کی سطح کے قریب ہو۔ٹھاکر نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ وہ ڈی آرایس کے استعمال کے گریزاں ہیں، انہوں نے کہا کہ وہ نو سے 13اکتوبر کے درمیان کیپ ٹاؤن میں ہونے والی آئی سی سی کی سہ ماہی سی ای سی میٹنگ میں اس مسئلے کو اٹھائیں گے۔ٹھاکر نے ہندوستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان دوسرے ٹیسٹ کے موقع پر غیر رسمی بات چیت کے دوران میڈیا سے کہا کہ دوبارہ ڈی آرایس نظر آئے گا،اگر یہ تسلی بخش ہوتا ہے تو بی سی سی آئی ڈی آرایس کا استعمال کر سکتا ہے،ہم اس سیشن میں گھریلو میدان میں 13ٹیسٹ میچوں کی میزبانی کر رہے ہیں تو کیوں نہیں؟ یہ سب رائے اور ڈی آرایس کے حالیہ ٹرائل کے نتائج پر منحصر ہے۔